وہ ایک رات ایک رات نہ تھے
ہ ہزاروں برسوں کی بیتی ہوۓ کہانی تھے
ا ور اس کہانی کی بھی ایک کہانی تھے
وہ کہانی جو اپنی لکھنی والی راوی کی منتظر
اس بچی کی طرح جو روز صبح کو
سورج کی جاگنی کا منتظرہوتا ہی ---
سورج جو خدا ہی انسان کے اس تقدیر کے طرح جو ہونی کو ممکن کرنی پہ مصروف عمل ہو --
سورج جو خدا کا بوڑھا دوست ہی---
سورج جو خدا کا ازل سی پجاری ہی ---
زردشت کی طرح ، موسیٰ اوور فروں کی طرح ---
ہاں مگر میں یہ سچ کس کو بتاؤں؟
سبھی نی اپنی آنکھوں میں پتھر سجا رکھی ہیں ---
اور سب مجھی شیطان نہیں --مردود کہتی ہیں --
ہاں مگر خزر جو موت کا دوست ؤو یہ جانتا ہی کی میں کیا نہیں جانتا ----