Fish

Monday, January 30, 2012

Thus Spoke Zarathustra




وہ ایک رات ایک رات نہ تھے

ہ ہزاروں برسوں کی بیتی ہوۓ کہانی تھے

ا ور اس کہانی کی بھی ایک کہانی تھے

وہ کہانی جو اپنی لکھنی والی راوی کی منتظر

اس بچی کی طرح جو روز صبح کو

سورج کی جاگنی کا منتظرہوتا ہی ---

سورج جو خدا ہی انسان کے اس تقدیر کے طرح جو ہونی کو ممکن کرنی پہ مصروف عمل ہو --

سورج جو خدا کا بوڑھا دوست ہی---

 سورج  جو خدا  کا  ازل سی  پجاری ہی ---

زردشت کی طرح ، موسیٰ  اوور فروں کی طرح ---

ہاں مگر میں یہ سچ کس کو بتاؤں؟

سبھی نی اپنی آنکھوں میں پتھر سجا رکھی ہیں ---

اور سب مجھی شیطان نہیں --مردود کہتی ہیں --

ہاں مگر خزر جو موت کا دوست ؤو یہ جانتا ہی کی میں کیا نہیں جانتا ----

0 comments: