Fish

Tuesday, December 28, 2010

اعتراف English title of this poem is Blasphemy



مجھی معاف کیجیگا
گر میں اعتراف نفس کروں
اپ میں سی کوئی مجھ پی کفر کے فتویٰ نہ لگائے
کیوں کے میں خدا سی بھی مل چکا ہو اور وو چب ہی
میں نکلا تھا ڈھونڈھنی
کس کو ؟ خود کو ؟ تم کو ؟ یا خدا کو ؟
پتا نہیں
دریا کے کناری پہ ایک صبح کو
دور ایک ملاح کے کشتی میں دو شخص ملی تھے
میں کناری پی ملاح کے بیٹی کو دیکھ رہا تھا
وو سخت سردی میں آدھا ننگا
دریا میں خضر کو تلاش کر رہا تھا .
کشتی میں سی دونو مسافر اترے
والی شہر کے منصبدار نی ان کو کہا "شناخت کراو اور محصول دو "
جواب میں مسافروں میں سی ایک نے کہا "خدا " دوسری نے کہا میں "بھگوان " ہوں .
اس نے مجھ سی پوچھا تم کون ہو ؟
میں نی کہا انسان .
مجھی یاد آئی جوگی کی وو بات
جس میں اس نے رام کے بنواس
اور گھوتم کے بن کا قصہ سمجھایا تھا
اور میں خوش ہوگیا تھا کے یہ دونو مہجی جلدی مل گئے تھے .
میں نی سوچنا شروع کیا کے کل جگ ، جنت اور دوزگ کے محور میں سی نکل کر
خلاؤں میں ایک گھر بناوگا اور ماورائی انسان ہوجاوگا.
اتنی میں خیال تبدیل ہوا اور میں نے دیکھا کہ پھگوان اور خدا کونی میں کھڑی تھے
ملاح کہ بیٹا خضر کی تلاش میں گم ہوگیا تھا اور پھگوان کو نید آئیگی تھے
میں خدا کے پاس گیا
خدا میری بولنی سی پہلی کہا تو بایزید بسطامی کی ساتھہ مل کی حسسیں بن حلاج کہ سر لاؤ.
میں نی خدا سی پوچھا آخر یہ سبھ کجہ کیا ہی ؟
اس نی کہا مجھسی یا بات موسیٰ نی بھی پوچھ تھے اور ابراہیم نے بهی
جبکی محمد کو میں خود بتائی تھے
اور کہنی لگا کہ تم کیوں پوچ رہی ہو ؟
کیا تمہی کسی نیک مرد نی نہیں سمجھایا کی خدا رازوں میں دخل اندازی نہیں کرتی ؟
میں نی کہا یا خدا میں یہ جانتا ہوں
اس نی کہا تمہی شیطان کی سزا بھول گئے ہی ؟
میں کہا نہیں یا خدایا .

کہنی لگا تو پھر اب ہماری ملاقات پل صراط پی ہوگی .
اگر زیادہ چاہو تو پھگوان جا کی ملو .
میں نی پھگوان کو جاکی نید سی اٹھایا
اس نی آنکھہ کھولتی ہی کہا
تم لنکا جاؤ راستی میں تمہی گھوتم ملی گا ، امید کہ تمہارا مسئلہ حل ہوگئے گا .
اتنی میں خضر ملاح کی بیٹی کی ساتھہ دریا میں سی نکل کی اتا دکھا دیا
اور مجھی کہنی لگا جلدی کرو تمہی گھوتم کی گھر چھوڑنا ہی .
گھوتم ٹیک اسی وقت گھر سی نکلا تھا اور دورر پہاڑوں سی میں نی بهی سنا تھا
سورودام دکھم دکھم
مجھی چپ کہ اشرا کیا ہوا تھا اور گھوتم نی تو جیسی اپنی ہونٹ سی لے تھے
اوراپنی الفاظ دور کہیں گفاؤ میں چھوڑ کی آیا تھا .
سات رات اور سات دن گوتم اور میں چپ چاپ چلتی رہی
اٹوین دن شام کو جب وو گاوں کی بوڑی
ہماری بھیک کی برتن میں

Friday, December 17, 2010

اس برس سردی کا موسم کچھ زیادہ تنہا ے کا احساس دلا رہا ہی. میں یہ سمجنی سی قاصر ہوں کے لوگوں کے ہجوم میں شجر ممنوع کیوں بنا ہوا ہوں. عقل ور ابہام کے سرحد کوۓ بازگش لگتی ہی. وقت تھم سا گیا ہی. الفاظ اپنی حرمت کھو گئی ہیں. میں جس خدا کے انکاری ہوں وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا? انتظار زمان مسلسل کے مسل تبدیل نہیں ہوتا. صبر کے درخت کے بیج پیوند ہے نہیں ہو رہی . خواب میںدیکھا بہت اوپر ایک سفید چھت تھے -اس کو چیر کے دوسری طرف پنہچا تھا -وو عجیب عکس تھے
-سفید بادلوں کے طرح-وو کیا تھا ؟ مجھی لگتا ہی پاگل پن اور بیخودی کا راستہ ایک ہے سمت کو جاتا ہی- -اس دن خواب کو میں قبرستان میں دفن کرنی گیا تھا مگر جب منزل پی پھچا تو پتا لگا اب خوابوں کو انسان کو اپنی اندر ہی دفنانا پڑےگا . میں کوہ تور کے تلاش میں کہان آ گیا ہوں- خضر تو کہان ہی ؟ میری وجود کو تو ذات کے قید سی آزاد کیوں نہیں کرتا ؟
میں کوہ طور سی بہت اگی جانا چاہتا ہوں -مجھی آئینہ چاہئے جو سب چہروں کا چہرہ دکھائی -


Monday, December 13, 2010

اے خدا کیا تیرا بھی کوئی خدا ہی ؟
تو کیسی خود بخود ہوگیا ؟
میں تجھ سا کیوں نہیں بنا؟
کیا تو کوئی اور ہی اور میں کوئی اور ہوں ؟
کیا یہ سب کجھ تونی بنایا ہے چھہ دنوں میں ؟
وہ آدم کون ہی ؟
کہیں توں بھیس بدل کر ہم سب کو پاگل تو نہیں کر رہا ہی ؟

Tuesday, December 7, 2010

Why کیوں

ای خدا تونی انسان کیوں بنایا ؟
میں تم سی عاجزی سی پوچھتا ہون
کیا تو اس فقیرےشہر کو روزے ثواب کے دں سب گناہ معاف کری گا ؟
کیا تو اسی پل بھر کے لیے خدا بنائے گا ؟
اور خود انسان بنی گا ؟
مجھی معاف کرنا گر میں غفلت میں ہوں
مجھ تیری خدائی کا کجھہ پتا نہی
توں کون ہی ؟ یہ اب تک معمہ کیوں ہے ؟
میں نہیں جانتا اس فقیری کا ڈھونگ -ہر ایک لمحہ عذاب ہی
کیا تیری گھر کو بھی کوئی دروازہ ہی؟
میں کہاں تیری رازوں کے چاپی تلاش کروں
ہر ایک راستہ بند ہی
نگاہ دھندلا کی رہ گئی ہی