مجھی معاف کیجیگا
گر میں اعتراف نفس کروں
اپ میں سی کوئی مجھ پی کفر کے فتویٰ نہ لگائے
کیوں کے میں خدا سی بھی مل چکا ہو اور وو چب ہی
میں نکلا تھا ڈھونڈھنی
کس کو ؟ خود کو ؟ تم کو ؟ یا خدا کو ؟
پتا نہیں
دریا کے کناری پہ ایک صبح کو
دور ایک ملاح کے کشتی میں دو شخص ملی تھے
میں کناری پی ملاح کے بیٹی کو دیکھ رہا تھا
وو سخت سردی میں آدھا ننگا
دریا میں خضر کو تلاش کر رہا تھا .
کشتی میں سی دونو مسافر اترے
والی شہر کے منصبدار نی ان کو کہا "شناخت کراو اور محصول دو "
جواب میں مسافروں میں سی ایک نے کہا "خدا " دوسری نے کہا میں "بھگوان " ہوں .
اس نے مجھ سی پوچھا تم کون ہو ؟
میں نی کہا انسان .
مجھی یاد آئی جوگی کی وو بات
جس میں اس نے رام کے بنواس
اور گھوتم کے بن کا قصہ سمجھایا تھا
اور میں خوش ہوگیا تھا کے یہ دونو مہجی جلدی مل گئے تھے .
میں نی سوچنا شروع کیا کے کل جگ ، جنت اور دوزگ کے محور میں سی نکل کر
خلاؤں میں ایک گھر بناوگا اور ماورائی انسان ہوجاوگا.
اتنی میں خیال تبدیل ہوا اور میں نے دیکھا کہ پھگوان اور خدا کونی میں کھڑی تھے
ملاح کہ بیٹا خضر کی تلاش میں گم ہوگیا تھا اور پھگوان کو نید آئیگی تھے
میں خدا کے پاس گیا
خدا میری بولنی سی پہلی کہا تو بایزید بسطامی کی ساتھہ مل کی حسسیں بن حلاج کہ سر لاؤ.
میں نی خدا سی پوچھا آخر یہ سبھ کجہ کیا ہی ؟
اس نی کہا مجھسی یا بات موسیٰ نی بھی پوچھ تھے اور ابراہیم نے بهی
جبکی محمد کو میں خود بتائی تھے
اور کہنی لگا کہ تم کیوں پوچ رہی ہو ؟
کیا تمہی کسی نیک مرد نی نہیں سمجھایا کی خدا رازوں میں دخل اندازی نہیں کرتی ؟
میں نی کہا یا خدا میں یہ جانتا ہوں
اس نی کہا تمہی شیطان کی سزا بھول گئے ہی ؟
میں کہا نہیں یا خدایا .
کہنی لگا تو پھر اب ہماری ملاقات پل صراط پی ہوگی .
اگر زیادہ چاہو تو پھگوان جا کی ملو .
میں نی پھگوان کو جاکی نید سی اٹھایا
اس نی آنکھہ کھولتی ہی کہا
تم لنکا جاؤ راستی میں تمہی گھوتم ملی گا ، امید کہ تمہارا مسئلہ حل ہوگئے گا .
اتنی میں خضر ملاح کی بیٹی کی ساتھہ دریا میں سی نکل کی اتا دکھا دیا
اور مجھی کہنی لگا جلدی کرو تمہی گھوتم کی گھر چھوڑنا ہی .
گھوتم ٹیک اسی وقت گھر سی نکلا تھا اور دورر پہاڑوں سی میں نی بهی سنا تھا
سورودام دکھم دکھم
مجھی چپ کہ اشرا کیا ہوا تھا اور گھوتم نی تو جیسی اپنی ہونٹ سی لے تھے
اوراپنی الفاظ دور کہیں گفاؤ میں چھوڑ کی آیا تھا .
سات رات اور سات دن گوتم اور میں چپ چاپ چلتی رہی
اٹوین دن شام کو جب وو گاوں کی بوڑی
ہماری بھیک کی برتن میں